25 دسمبر 2011 - 20:30

فلسطين کي منتخب حکومت کے وزيراعظم اسماعيل ہنيہ نے اسلامي ملکوں کے رہنماؤں سے فلسطين سے متعلق مسائل پر تبادلہ خيال کے لئے اسلامي ملکوں کا دورہ شروع کرديا ہے -

ابنا: غير ملکي دورے کے پہلے مرحلے ميں وزير اعظم اسماعيل ہنيہ مصر پہنچے جہاں سے وہ سوڈان ، تيونس اور ترکي سميت کئي ديگر ملکوں کا بھي دورہ کريں گے- اسرائيل کي جانب سے جاري غزہ کے محاصرے اور صيہوني حکومت کي جانب سے لاحق خطرات وزيراعظم اسماعيل ہنيہ کے اس دورے کے ايجنڈے کے اہم ترين موضوعات ہيں -

اسماعيل ہنیہ کا يہ دورہ غزہ پر اسرائيل کي بائيس روزہ جارحيت کي برسي کے موقع پر انجام پارہا ہے جو اس بات کي ثبوت ہے کہ فلسطيني حکام صيہوني حکومت کے غير انساني اور جنگ پسندانہ اقدامات کے نتيجے ميں فلسطيني عوام کو پہنچنے والے نقصانات اور انکي مظلوميت کو اجاگر کرنے کے لئے کس حدتک تگ و دو کر رہے ہيں-

غزہ کا علاقہ سن دوہزار سات سے اسرائيل کے شديد ترين محاصرے ميں ہے جبکہ سن دوہزار آٹھ ميں اس علاقے کو بائيس روز تک اسرائيل کے وحشيانہ حملوں کا بھي سامنا کرنا پڑا تھا- اس بات ميں کوئي شک نہيں ہے کہ اسرائيل کي وحشيانہ جارحيت کا مقصد فلسطيني عوام ميں خوف ہراس پيدا کرنا اور انہيں صيہونيت مخالف جدوجہد سے دست بردار ہونے پر مجبور کرنا تھا ليکن بائيس روزہ جنگ ميں اسرائيل کي شکست خطے کي عوامي مزاحمت کے سامنے اسکي مسلسل ناکاميوں کا پيش خيمہ بن گئي- اسرائيل کو اس سے قبل سن دوہزار چھے ميں بھي لبنان کے خلاف تينتس روزہ جنگ ميں ذلت آميز شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا-

مصر اور تيونس کے عوام کي جانب سے اسلامي رجحان رکھنے والي جماعتوں کو بھاري مينڈيٹ دنيا اور اسرائيل کے ساتھ مکمل طور سے تعلقات توڑنے اور فلسطيني عوام کي حمايت کے مطالبات کا زور پکڑنا اس بات کي نويد دے رہا ہے کہ اسلامي مشرق وسطي جنم لينے والا ہے جس ميں اسرائيل کي غاصب اور جعلي حکومت کے لئے کوئي گنجائش نہيں ہے-

ايسے حالات ميں وزيراعظم اسماعيل ہنيہ ، اسرائيل اور اسکے حاميوں کي سازشوں کا مقابلہ کرنے کي غرض سے صلاح و مشورے کے لئے خطے کے بعض ملکوں کے دورے پر نکلے ہيں- انکا يہ دوہ ايسے وقت ميں انجام پارہا ہے جب خطے کے ملکوں کے عوام اس بات کي توقع کر رہے ہيں کہ ان کے ملکوں کے عہديدار فلسطيني عوام کي حمايت کے ذريعے فلسطينيوں کے خلاف اسرائيل اور اسکے حاميوں کي جانب سے روا رکھے جانے والے ظلم و ستم کے خاتمے کے لئے عملي اقدامات کريں گے- اس تناظر ميں ديکھا جائے تو مشرق وسطي کے ممالک کو غزہ کا محاصرہ توڑنے کي غرض سے فوري اور ٹھوس فيصلہ کرکے غزہ کے مکينوں کي مدد کے لئے اٹھ کھڑا ہونا چاہئے - وزيراعظم اسماعيل ہنيہ کا دورہ اس حوالے سےکسي بھي فيصلے کے لئے ايک بہترين موقع ہے-

........

/169